0

ناولٹ: منجدھار مصنفہ: حفصہ بٹ عدن

ناولٹ: منجدھار
مصنفہ: حفصہ بٹ عدن
قسط نمبر 1
سرخ بتی روشن ہوتے ہی ٹریفک کا اژدھام تھم گیا۔ دائیں جانب کا اژدھام بائیں جانب تیزی سے سرکنے لگا۔ پوں پوں پاں پاں کرتی بسیں، ٹرک اور پھٹ پھٹ کرتے رکشوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ہر طرف شور و غوغا اور افراتفری کا سماں تھا۔ فٹ پاتھ کے فقیروں کو بھی لال بتی جلنے سے یک دم ہوش آگیا تھا۔ ایک لمحے میں پوری سڑک پر بکھر کر مخصوص گھسی پٹی صداؤں سے عوام کے کلیجے جلا رہے تھے۔ کسی کی کار کا شیشہ بجایا کسی کی بائیک پر لٹکتے بچے کے صدقے واری جا کر دعاؤں کا کھاتا کھول لیا۔
وہ بھی اپنی شیورلٹ کا شیشہ گرائے کسی فقیر کو پیسے پکڑا رہی تھی کہ غزالی آنکھوں کی ٹکر سہمی سی لڑکی سے ہوئی۔ وہ گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی، سڑک کی سیاہی میں کچھ کھوج رہی تھی، چہرہ جھکا ہونے کی سبب نقوش نمایاں نہیں تھے۔ اس نے گاڑی فٹ پاتھ کی طرف لگائی اور اتر آئی۔
“میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟” غزالی آنکھوں والی کے سوال پر لڑکی نے چونک کر سر اٹھایا، حیرت سے اس کے سراپے پر نظر ڈالی اور دیکھتی ہی رہ گئی۔ چہرہ سپاٹ تھا۔
وہ جواب نہ پا کر خود ہی بے تکلفی سے بیٹھ گئی۔
سگنل سبز ہو گیا تھا، اس کی شیورلٹ جوں کی توں کھڑی تھی۔ اردگرد سڑک پر پہیے رگڑ کھاتے دوڑتے ہی چلے جارہے تھے۔
” تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟” لڑکی اب بھی خاموش تھی۔
” کہاں رہتی ہو؟” اس نے ایک بار پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کئی سوال مچل رہے تھے۔
“یہیں”
یہیں مطلب؟ یہاں فٹ پاتھ پر؟” اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔ فٹ پاتھ کی گھاس پر آڑے ترچھے بیٹھے اور لیٹے، طرح طرح کے لوگ تھے۔
” گھر کہاں ہے؟”
اس سوال پر وہ خلاؤں میں گھورنے لگی۔ سوچ کی الجھی ڈوریں سلجھائے نہیں سلجھ رہی تھیں۔ “پتا نہیں”
غزالی آنکھوں نے اچنبھے سے اسے دیکھا اور غور سے اس کا چہرہ پڑھنے لگیں۔
“کھانا کھاؤ گی؟”
لڑکی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
” چلو میں تمہیں کچھ کھلاتی ہوں” غزالی آنکھوں والی نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔
” تمہیں تو بہت تیز بخار ہے، چلو ہسپتال لے چلتی ہوں، میں ہسپتال ہی جا رہی تھی”
وہ اسے زبردستی گاڑی تک لائی۔
لڑکی نہیں نہیں کرتی کھڑی رہی۔
” دیکھو میں ایک ڈاکٹر ہوں، ہسپتال ہی جارہی تھی، گھبراؤ مت، تمہارا چیک اپ کرواؤں گی میں خود”
لڑکی نے اس کی غزالی آنکھوں میں جھانکا اور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
اب شیورلٹ کے پہیے تیزی سے گھومتے جا رہے تھے.
_________________________
دو ماہ بعد!
” آپ کو باغبانی کا کافی شوق لگتا ہے فرحت باجی!” غزالی آنکھوں والی نے فرحت کے رنگا رنگ پھولوں سے بھرے باغیچے کو ستائش سے دیکھتے ہوئے کہا۔
جواباً فرحت نے مسکرا کر سر ہلایا۔
” میں نے اتنا خوبصورت باغیچہ اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، ایسا لگ رہا ہے جنت میں آگئی ہوں” وہ مسحور ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے شرارت سے مسکرا رہی تھی۔ اس کی اس حرکت پر فرحت نے سر پر چپت لگائی اور دونوں ہنستے ہنستے ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں۔
وہ ڈاکٹر نجانے فرحت کی زندگی میں کہاں سے بھیجی گئی تھی۔ وہ فرحت جو مردہ ہو چکی تھی، جس کی زندگی میں کوئی فرحت نہ تھی۔ وہ اس کی زندگی میں رنگ بھرنے چلی آئی تھی بالکل اس شہزادے کی طرح، جو شہزادی کو موت کے منھ سے بچا کر، خوشیوں سے دامن کو مالا مال کر دیتا ہے۔
وہ باغیچہ جو فرحت نے غزالی آنکھوں والی ڈاکٹر کے اکسانے پر سجایا تھا،اس کی رہنمائی سے سارے پودوں اور پھولوں کو بویا تھا، اسی کے نام ہو گیا تھا۔ اس کی صفائی ستھرائی، پانی دینا، نوک پلک سنوارنا، گوڈی کرنا، سب اسی کے ذمے تھا۔ وہ پیڑ پودے اس کے بچے تھے، اس کی اولاد تھے۔ اس نے ایک ایک کا بیج بویا تھا، ہر ایک کو پروان چڑھایا تھا، بالکل ایک ماں کی طرح، سب کو نہلایا تھا، سب کی نوک پلک سنواری تھی۔ وہ ان کی صحبت میں اتنی خوش ہوتی تھی جتنی اس کی خوش ہونے کی استطاعت تھی۔ اسے دنیا جہاں سے زیادہ سکون اپنی اولاد کے ساتھ ملتا تھا۔ کسی کو سونگھتے، کسی کو چھوتے ہوئے بالکل معصوم بچے کے لمس کا احساس ہوتا تھا۔ سب پیچھے رہ گیا تھا، ساری کمیاں دور ہو گئی تھیں، خواہش کا ہر خانہ پُر ہو گیا تھا۔ وہ اپنے آپ سے یہی کہتی تھی مگر وہ خود نہیں جانتی تھی کوئی ایک خانہ بھی پُر ہوا یا سب خانوں کی وقعت ہی تمام ہو گئی تھی۔
اس کا سب کچھ وہ ڈاکٹرتھی، جو اس کے چہرے کی مسکراہٹ کے لیے آئے دن کچھ نیا ڈھونڈ لاتی تھی۔ اب بھی شاور اٹھائے اس کے سفید گلاب پر نرم پھوار ڈال رہی تھی۔
__________________________
” تو نے چوڑیاں پہنی ہیں کیا؟ نکالتا کیوں نہیں ہے اس فساد کی جڑ کو، دفع کرو اس کے گھر، ٹکے کا فائدہ نہیں ہے نگوڑ ماری کا” کوئی چڑیل حلق کے بل چلارہی تھی۔
” نصیب ماری کی نہ اولاد ہوتی ہے، نہ کرتوت اچھے ہیں، ہمارے بھی نصیب پھوڑنے آگئی ہے،منحوس کہیں کی” دوسری چڑیل بھی زہر اگلنے لگی۔
” اس کی تو آج ٹانگیں توڑتا ہوں، یہ جو جاتی ہے نا رحمت بی بی کے پاس، سارا دماغ کا فتور اسی کی وجہ ہے، ساری پٹیاں وہی پڑھاتی ہے، ہزار دفعہ کہا ہے ہمارے معاملے میں ٹانگ مت اڑایا کر مگر نہیں، بہت سیانی بنتی ہے” کوئی دیو اس پو جھپٹا تھا، ایک شہتوت کا ڈنڈا تھا جو سر میں آلگا تھا، زمین و آسمان گردش میں آگئے، اس کا دماغ لٹو کی طرح گھوم رہا تھا۔ وہ کٹے ہوئے شہتیر کی طرح گری۔ یکایک کئی چمگادڑیں آچمٹیں، اس کا دم گھٹ رہا تھا، کوئی سانس کھینچ رہا تھا۔ وہ چیخ مار کر اٹھ گئی۔ سارا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ دل کھوپڑی میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔ سانسیں اس طرح چڑھی تھیں گویا وہ میلوں آدم خوروں سے جان بچا کر بھاگتی ہوئی، اس چھوٹے سے کمرے میں آ پہنچی ہو۔
اس نے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ اندھیرے کا راج تھا۔ اس کی جنت لہلہا رہی تھی۔ وہ کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ کھڑکی پر آ رکی۔ اس کے بچے اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ وہ جواباً مسکرانا چاہتی تھی مگر ہونٹ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
رات کی رانی نے فضا کو معطر کر رکھا تھا۔ فرحت نے آنکھیں موند کر کھل کر سانس اندر کھینچا۔ چہرے کی رونق لوٹنے لگی تھی۔
______________________
“کچھ پتا چلا اس لڑکی کا؟” ڈاکٹر رابعہ شاہین غزالی آنکھوں والی سے ہوچھ رہی تھی۔
“کل بتا رہی تھی وہ گاؤں میں کپڑے بھی سلائی کیا کرتی تھی”
“ہوں ں ں ں۔۔۔ کچھ اپنی فیملی کا نہیں بتاتی؟ ڈاکٹر رابعہ نے پرسوچ انداز میں پرسوچ انداز میں کہا۔
” بس اتنا ہی معلوم ہوا ہے وہ کسی گاؤں میں رہتی تھی، اس کے ابا کسان ہیں، امی ہاؤس وائف” اس کی آنکھوں میں فکرمندی تھی۔
” حادثے کے بارے میں کچھ یاد نہیں آیا اسے؟ ”
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ڈاکٹر رابعہ مضطرب ہو کر ٹانگ ہلانے لگیں۔
دونوں انسانی نفسیات کو سمجھنے کے دعوے دار دماغ سوچ بچار کرنے لگے، جو وہ ایک مہینے سے کرتے آرہے تھے۔
اچانک غزالی آنکھوں میں چمک ابھری۔
“اسے رات پھر خواب آیا ہے کوئی؟”
ڈاکٹر رابعہ فوراً متوجہ ہوئیں۔
” وہ رات بھی کسی خواب سے ڈر گئی تھی، شاید بہت زیادہ سہمی ہوئی اور تکلیف میں تھی، اس کے جسم میں لرزش تھی”
” تم نے پوچھا نہیں خواب کے بارے میں؟”
” دل نہیں چاہا اس کی آنکھوں میں پھر وہی تکلیف دیکھوں” اس کی آنکھوں میں افسردی کے سائے جھلملانے لگے۔
“مگر یہ تو کرنا پڑے گا زمرد! ”
“آج کوشش کروں گی”
غزالی آنکھوں والی زمرد اٹھی، لمبے لمبے قدم اٹھاتی، ڈاکٹر رابعہ کے آفس سے باہر نکل آئی۔
_______________________
“امی مجھے بھی شہر کالج میں داخلہ کروا دو نا! ثنا کے بھائی نے اس کا خود داخلہ کروایا ہے” فرحت لکڑیوں کا گٹھڑ اٹھاتے ہوئے بولی۔
” تیری سوئی ایک ہی جگہ کیوں اٹکی ہے، تیرے ابا نے اب تیری شادی کرنی ہے، سمجھی تو!” اماں نے ڈانٹ کر کہا اور اس کے سر پر گٹھڑ رکھوانے لگی۔
” کیا زندگی میں بس ایک ہی کام ہے، شادی کر لو، شادی کر لو۔ ثنا بھی تو ہے نا اس کے ابا کو تو کوئی جلدی نہیں ہے، وہ تو کہہ رہی تھی خوب سارا پڑھے گی” فرحت رونی صورت بنائے سراپا شکوہ بنی ہوئی تھی۔
” اس کا ابھی رشتہ نہیں آیا۔ پتری! تیرا رشتہ بہت اچھا آیا ہے، ہم انکارنہیں کر سکتے، لڑکا کلّم کلاّ (اکلوتا) اتنی زمین کا مالک ہے، ایسے رشتے روز روز نہیں آتے”
اس کی ماں اس کے آگے آگے لکڑیوں کا بوجھ اٹھائے، بے فکری سے چلتے ہوئے اسے سمجھانے لگی۔
” امی آپ کو زمینوں کی پڑی ہے، مجھے نہیں چاہئیے کوئی زمین، مجھے بس پڑھنا ہے، ابا کو بتا دینا”
” تیرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے فرحت! ادھر ہی چپ کر جا بس”
فرحت تلملا کر رہ گئی۔ دل چاہا خود کو نوچ کھائے یا ان سب کو جو اس کے خوابوں کے دشمن بنے بیٹھے تھے۔
نقار خانے میں طوطی کی آواز کسی نے نہ سنی، تین ماہ کے اندر اندر فرحت اپنی خواہشات کا جنازہ پڑھ کر پیا گھر سدھار گئی۔
جاری ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں