0

ناولٹ: منجدھار،قسط نمبر 2، مصنفہ: حفصہ بٹ عدن

ناولٹ: منجدھار
مصنفہ: حفصہ بٹ عدن
قسط نمبر 2
زمرد ابھی ہسپتال سے لوٹی تھی۔ فرحت کو دیکھنے کے لیے اس کے کمرے کی جانب رخ کر دیا۔
“کیا کر رہی ہو فرحت! آج لان میں کیوں نہیں بیٹھی اور اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے؟” زمرد نے کھڑکی کے پردے پرے کیے، شام کی ٹھنڈی روشنی کمرے میں کود پڑی۔
” بس دل نہیں چاہ رہا تھا” وہ کسل مندی سے کہتی اٹھی۔ چہرے سے رونق غائب تھی ۔
” باجی! ایک عورت آئی تھی آج، کہہ رہی تھی زمرد کی ممی ہوں”
” اچھا ممی آئی تھیں؟ کیا ادھر ہی ہیں یا چلی گئیں؟” غزالی آنکھیں چمک اٹھیں۔
” ادھرہی ہیں شاید”
زمرد سر ہلاتی گھر کی اندرونی طرف تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
لاؤنج کی ساری بتیاں روشن تھیں۔ ٹی وی پر کوئی پروگرام نشر ہو رہا تھا۔ ٹیلی ویژن کی آواز سنتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
“السلام علیکم ممی! کیسی ہیں آپ؟ سرپرائز ہی کر دیا” زمرد گرم جوشی سے گلے لگ گئی۔
“وعلیکم السلام! آئی ایم گڈ، تم کیسی ہو؟”
” بالکل فائن!”
” حسن آیا کیوں نہیں بنکاک سے ابھی تک؟” لہجے میں فکرمندی عیاں تھی۔
” کچھ اور کام بھی نکل آئے، شاید ایک دو دن مزید لگ جائیں، آپ بتائیں، اچانک کیسے آگئیں آپ؟” زمرد کا چہرہ دمکنے لگا تھا۔
” بوا گاؤں گئی ہے، میں نے سوچا اپنی بیٹی کو دیکھ آؤں” مسز جہاں آرا نے ریموٹ اٹھا کر بٹن دبایا، ٹی وی سکرین تاریک ہو گئی۔
” تم نے گھر میں پیشنٹس ( مریضوں) کو لانا کب سے شروع کر دیا؟” وہ خفگی سے بولیں۔
” ممی! بس اس کو ہی لائی ہوں، اس کو کچھ یاد نہیں آرہا گھر والوں کے بارے میں، ہاسپٹل میں اتنی دیر رکھا نہیں جا سکتا، میں نے سوچا سرونٹ کوارٹرز میں سے ایک اسے دے دیتی ہوں”
” حسن کو پتا ہے؟”
زمرد ںے نفی میں سر ہلایا۔ مسز جہاں آرا اسے تاسف سے گھور کر رہ گئیں۔ غزالی آنکھوں نے اپنا رخ بدل لیا۔
________________________
ملن کے چند دن بعد!
فرحت! ایک بات بتاؤ” غزالی آنکھیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ “تمہارے ابا کیا کرتے تھے؟کیا وہ کسان تھے یا کوئی اور پیشہ تھا؟”
فرحت نے خالی خالی نظریں سفید چھت پر گاڑ دیں۔
” تمہیں چوٹ کیسے لگی تھی؟”
زمرد کا یہ کہنا تھا کہ فرحت کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔ خواب والے جنوں، بھوتوں اور چمگادڑوں کی یلغار ہو گئی۔ سر مشین کے چکّے کی طرح قلابازیاں کھانے لگا۔ اس نے تڑپ کر سر تھاما، آنکھیں بند کرکے پوری قوت سے چلاتی چلی گئی۔ غزالی آنکھیں پریشانی سے اس کے سرخ پڑتے چہرے پر تکلیف ہی تکلیف دیکھ رہی تھیں۔
اُدھر اس کے دماغ کا ایک اور دریچہ کھل گیا۔
“فرحت بھابھی! امی یا بھیا کو مت بتانا، میں عثمان سے ملنے جارہی ہوں”
“تو مجھے کیوں بتا رہی ہو، اماں کو بتاؤ جا کر، تم مجھے بھی مرواؤ گی” وہ غصے سے بولی تھی۔
” تو آپ سنبھال لیں نا!”
“میں نہیں سنبھال سکتی، تمہیں پتا ہے نا اپنے بھائی کےمزاج کا”
“تو ٹھیک ہے پھر چپ رہیئے گا بس” وہ پیر پٹختی چلی گئی تھی مگر اسی شام پکڑے جانے پر، اپنے کیے دھرے کا سارا الزام فرحت پر تھوپ کر بری ہو گئی۔ دوسری نندوں اور ساس نے بھی خوب تیل چھڑکا۔
دنیا جہان کی چمگادڑیں اس سے آچمٹی تھیں۔ کسی جلاد نے اس کے سر پر قیامت ڈھا دی ۔ وہ وحشی اس کی جان لینے کے در پے تھا۔ کتنی دیر تڑپتی تڑپتی وہ ساکت ہوئی تھی، کچھ یاد نہیں تھا۔
وہ چیختے چیختے بے دم ہونے لگی۔ زمرد نے اس کی حالت دیکھ کر نرس کو اشارہ کیا، جس نے آگے بڑھ کر ایک انجیکشن کی سوئی اس کے بازو میں پیوست کر دی۔ رقیق مائع اس کے جسم میں قطرہ قطرہ اترنے لگا۔
سفید دیواریں، سفید دروازہ، سفید پردے، سفید بستر، ہر شے سفید، کیا مرنے کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے عالمِ برزخ؟ کیا ہر شے پر کفن کی سفیدی اوڑھ دی جاتی ہے؟ اس کا شعور جاگنے کی کوشش میں تھا مگر رقیق مائع اس کو بیدار رکھنے سے مانع تھا۔
___________________________
دن کا دوسرا پہر ڈھلنے کو تھا۔ سورج سروں پر سے ہوتا ہوا بغیر کسی روک ٹوک، مغرب کی جانب سفر کر رہا تھا۔ ڈاکٹر زمرد حسن ریوالونگ چئیر سے پشت ٹکائے ہاتھ میں پکڑے قلم کو، مضطرب انداز میں پینڈولم کی طرح حرکت دے رہی تھیں، پیشانی پر سوچ کی لکیریں نمایاں تھیں۔
گندمی رنگت ، پرکشش نقوش والی فرحت اس کے سامنے تھی۔ وہ اور ڈاکٹر رابعہ شاہین پچھلے دس دنوں سے اسے سمجھنے کی، اس کا علاج کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھیں،مگر ابھی تک خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو سکا تھا۔
ایک انجانی لڑکی، جس سے ہمدردی کے ساتھ ساتھ اسے انسیت بھی ہو گئی تھی۔ اس کی مسکراہٹ سے اسے سکون ملتا تھا، وہ چاہتی تھی وہ اس کی ہنسی سنے، یہ دیکھے وہ قہقہہ لگاتی ہوئی کتنی خوب صورت لگتی ہے۔ وہ ایک زندگی سے بھرپور قہقہے کی منتظر تھی۔ وہ اسے ذہنی سکون تو دے رہی تھی مگر اب اوہ گتھی سلجھانی تھی، جو اس خوب صورت لڑکی کی دماغی مرض کا باعث بنی تھی۔
گزشتہ دس دنوں میں بس اتنا ہی جان پائی تھی اس کا نام فرحت ہے، کسی گاؤں میں رہتی تھی، اس کے ماں باپ، بھائی سب ادھر ہی رہتے ہیں مگر کہاں، کس گاؤں، کس جگہ، کچھ یاد نہیں تھا۔ وہ اس فٹ پاتھ پر کب سے رہ رہی تھی، اس بارے میں بس اسے یہ یاد تھا، جب سر کی چوٹ اچھی ہو گئی تو ہسپتال سے ڈسچارج کر دی گئی تھی، گھر، محلہ، لوگ، کچھ بھی ذہن کے خانوں میں صاف نہیں تھا۔ دھندلے خیالات، ستارے اور روشنیاں گڈ مڈ رہتی تھیں۔ بخار کا سبب بھی ذہنی دباؤ، خوراک کی کمی اور حالات کی سنگینی تھی۔
آج صبح کوئی سرا ہاتھ آیا تھا۔
” ڈاکٹرنی! کیا میں ماں بن سکتی ہوں ؟” زمرد نے فرحت کے اس سوال پر بے ساختہ چہرہ موڑ کر نرس کو دیکھا تھا۔
“ہاں ہاں! کیوں نہیں” اس نے مسکرا کر یقین دلایا۔
” مگر میں تو بانجھ ہوں” معصوم سے مکھڑے کا نقش نقش کرب میں تھا۔
” یہ تم سے کس نے کہا؟ اللہ نے چاہا تو ایسا ضرور ہو گا” زمرد نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ وہ اب بھی خاموش تھی۔
” تم شادی شدہ ہو؟ تمہارا شوہر بھی ہو گا پھر؟” زمرد کے اس سوال پر وہ خالی خالی نظروں سے کافی دیر اسے گھورتی رہی، جذبات سے عاری چہرہ بالکل گونگا تھا۔ وہ چہرے پڑھ سکتی تھی، یہ کیسا چہرہ تھا جو پڑھا نہیں جا رہا تھا۔
“تو تمہیں اولاد چاہئیے، ہاں؟ فرحت کی آنکھوں میں چمک ابھری۔
“اگر میں کہوں کہ تمہاری بہت اولاد ہو سکتی ہے پھر؟” زمرد اسے بچے کی طرح بہلا رہی تھی۔ بڑے غور سے زمرد کو سنتے ہوئے، اس کے چہرے پر ہلکا سا خوشی کا سایہ لہرایا۔
” مجھے بتاؤ کیسے؟” آخر وہ بول پڑی۔ زمرد بے ساختہ مسکرائی۔
“کل بتاؤں گی، ٹھیک ہے نا!”
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
زمرد ںے فائل کھولی، کاغذ پر کچھ لکھا اور نرس کو ہدایات دینے لگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں