عنوان اولڈ ہاٶس آخری قسط ، تحریر: مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ
اگلے ہی روز ہمنا بچوں کو لے کر گھر واپس آجاتی ہے۔ وہ جب گھر پہنچتی ہے تو پھلے کی طرح اس کا استقبال نہیں کیا جاتا، جیسے پہلے جب ہمنا گھر آتی تو زبیر مسکراتے ہوئے چہرے اور چمکدار آنکھوں کے ساتھ ہاتھ میں پھول لیئے اس کا استقبال کیا کرتا تھا اور اسکے پیچھے اس کی ماں ہوتی جو مسکراتی، بلائیں لیتی آگے بڑھ کر ہمنا کو پیار کرتی اور گلے لگاتی۔ مگر اس بار دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے خالی خالی لاونچ اور خاموش دیواروں نے اس کا استقبال کیا۔ سارا گھر سنسان اور اتنی خاموشی کہ کاٹنے لگی تھی۔ گھر کے ملازمین بھی غائب۔ جب ہمنا لاونچ میں سے سیڑھیاں چڑ کر اوپر کمرے میں جانے لگتی ہے تو اسے کسی کی سسکیوں کی آواز آتی ہے وہ رک جاتی ہے۔ تھوڑا غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ آواز بیگم کلثوم کے کمرے سے آرہی ہے۔ وہ سیڑھیوں سے نیچے آجاتی ہے اور دھیرے دھیرے بیگم کلثوم کے کمرے کی جانب بڑھنے لگتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر دروازہ کھولتی ہے اور کمرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ وہ جب اندر داخل ہوتی ہے تو کیا دیکھتی ہی کہ زبیر بیگم کلثوم کے بستر ٹیک لگائے، وہ فوٹو فریم جس میں اس کے ماں،باپ اور خود زبیر کا گروپ فوٹو تھا، ہاتھ میں لئے زمین پر بیٹھا تھا۔ اور اسکی آنکھوں سے آنسو اس گروپ فوٹو پر گِر رہے ہوتےہیں، زبیر اس گروپ فوٹو پہ جھکا ہوا ہوتا ہے اور اسکی آنکھیں سوجی ہوئی اور سرخ ہوتی ہیں جیسے وہ کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔
ہمنا خاموشی سے آکر اسکے پاس بیٹھ جاتی ہے اور آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہے ” زبیر “! ، زبیر پیچھے مڑے بنا، اس کی طرف دیکھے بنا وہ اس سے مخاطب ہوتا ہے، کیوں آئی ہو؟۔۔۔۔۔۔ اس کا لہجہ سرد اور غضب ناک تھا۔ اب کیوں آئی ہو تم یہاں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیر چیخ کر کہتا ہے۔ ” زبیر، جو کچھ ہوا، اسے بھول جاؤ ، دیکھو تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے، اس طرح سے تو تم بیمار پڑھ جاؤ گے۔“ اس کے لہجے میں ہمدردی ہوتی ہے۔
” بھول جاؤں؟ ماں کو بھول جاؤں؟ میں اپنی ماں کو بھول جاؤں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور دے کر کہتا، اس کے لہجے میں تلخی، غصہ اور نفرت ہوتی ہے۔ وہ نفرت سے ہمنا کا ہاتھ جھٹک دیتا ہے۔ ہمنا سہم کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ پھر وہ ایک دم کھڑا ہوتا ہے اور ہمنا کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتا اور اس سے مخاطب ہوتا ہے۔ تمہاری وجہ سے میری ماں چلی گئی، صرف تمہاری وجہ سے۔ پہلے میرا باپ اس دنیا سے چلا گیا، اب میری ماں بھی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ صرف تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔ علیحدہ رہنا چاہتی تھی نہ تم، تمہیں علیحدہ گھر چاہیئے تھا نہ۔ لو رہو اب تم اکیلی یہاں۔ کوئی نہیں ہے اب یہاں پر، نہ میری ماں ، نہ باپ، نہ ہی میں اور نہ ہی کوئی اور جو تمہارے آرام میں خلل ڈالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ وہ بولے چلے جا رہا تھا اور ہمنا حیران و پریشان ہوکر اسے دیکھ رہی تھی۔پھر وہ زور سے ہمنا کو دھکیلتا ہے اور ہمنا بیگم کلثوم کے بستر پر جاکر گرتی ہے۔ اور زبیر تیزی سے کمرے سے نکل جاتا ہے۔ وہ گیراج میں جاتا ہے اور گاڑی لےکر باہر نکل جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد وہ کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔