اولڈ ہاؤس قسط پنجم، تحریر:مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ
اسی دوران زبیر اور اسکی ماں کو خبر ملتی ہے کہ جس جہاز میں سیٹھ امداد پاکستان آرہے تھے وہ جہاز تباہ ہوجاتا ہے، سیٹھ امداد کے گھر والوں پہ قیامت ٹوٹتی ھے۔ بیگم کلثوم کو سکتا ہوجاتاہے، جس کو لےکر زبیر اور بھی پریشان ہوجاتا ہے اور ادھر ہمنا موقع غنیمت جان کر زبیر سے ہمدردی کے بہانے زبیر کے گھر آنا جانا شروع کردیتی ہے۔ زبیر بھی آہستہ آہستہ آفس جانا شروع کردیتا ہے۔ سب رشتہ داروں اور دوست احباب بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اس حادثہ کی وجہ سے ہمنا ، زبیر اور اسکی ماں کے اور قریب ہوجاتی ہے اور ہمنا کا زبیر کے گھر آنا جانا بہت بڑھ جاتا ہے۔ اتنا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمنا ، زبیر کی امی کو پسند آنے لگتی ہے اور وہ زبیر اور ہمنا کی شادی کروا دیتی ہے۔ شروع شروع میں تو سب ٹھیک ہوتا ہے اور سب مل جل کر رہتے ہیں مگر پھر آہستہ آہستہ ہمنا اپنا رنگ دکھانا شروع کردیتی ہے۔ ہمنا بات بات پہ بیگم کلثوم کو نوک جھوک کرتی اور بات بہ بات ان کو بیوہ ہونے کا طعنہ دیتی اور اس کو یہ جتاتی کہ یہ گھر اسکا اور اسکے شوہر کا ہے اور ان کو یہ احساس دلاتی کہ وہ ان پہ بوجھ ہے اور وہ ان کی ذاتی زندگی کو ڈسٹرب کر رہی ہیں۔ بیگم کلثوم نے بزنس اور گھر ساری جائیداد، سب کچھ زبیر کے نام کردیا تھا اور ظاہر ہے کہ وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی اور انکا سب کچھ زبیر کا ہی تو تھا۔ ہمنا اور بیگم کلثوم کے درمیان تناؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ہمنا زبیر سے علیحدہ گھر کا مطالبہ کردیتی ہے۔ زبیر ہمنا کو سمجھاتا ہے مگر ہمنا زبیر کی ایک نہیں سنتی اور اپنی زد پہ قائم رہتی ہے۔ ہمنا اور زبیر کے دو بچے ہوتے ہیں چھ سالہ عدن اور آٹھ سالہ نیہا۔ نیہا عدن سے بڑی ہوتی ہے اور وہ دونوں بچے شہر کے سب سے مہنگے سکول میں پڑھتے ہیں۔
ایک دن جب زبیر آفس ہوتا ہے تو ہمنا اور بیگم کلثو کے درمیان سخت قسم کا جھگڑا ہوجاتا ہے اتنے میں زبیر بھی آفس سے واپس آجاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ ہمنا بیگم کلثوم کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکال رہی ہوتی ہے۔ زبیر سے یہ برداشت نہیں ہوتا اور وہ آگے بڑھ کر ہمنا کے منہ پر تھپڑ مار دیتا ہے اور اس کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکا دیتا ہے اور ہمنا زمین پر گر جاتی ہے مگر زبیر اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا اور اپنی ماں کو پکڑ کر کمرے میں لے جاتا ہے۔ ہمنا کو بہت غصہ آتا ہے اور اسی وقت اٹھتی ہے اور بچوں کو لے کر اپنے ماں باپ کے گھر جاکر بیٹھ جاتی ہے، اور زبیر کے بار بار اسے جاکر منانے کے باوجود بھی وہ زبیر سے نہیں ملتی اور نہ ہی بچوں کو اس سے ملنے دیتی ہے۔ اور وہ زبیر سے کہ دیتی ہے کہ” یا تو وہ اپنی ماں کو گھر سے نکالے یا پھر اسے علیحدہ گھر لے کر دے وہ اب ایک پل اور اس کی ماں کو اس گھر میں برداشت نہیں کرے گی ،وگرنہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ “ اب کی بار زبیر مجبور اور بے بس ہوتا ہے وہ نہ تو اپنی ماں کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کو۔ بوڑھی ماں جس کا زبیر کے سوا کوئی سہارا نہ تھا مگر وہ اپنے بچوں کو بھی بہت چاہتا تھا، مگر ہمنا، بیگم کلثوم کے ہوتے ہوئے کسی صورت گھر واپس آنے کو تیار نہ تھی۔ اس صورتِ حال نے زبیر کو بہت مجبور اور بے بس کردیا تھا اسکا ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ زبیر صبح ناشتہ کیئے بغیر آفس چلا جاتا اور رات کو دیر سے گھر آتا۔ وہ اپنی ماں سے بھی بہت کم بات کرتا وہ بہت چپ چپ رہنے لگا تھا۔ اس کی مصروفیات اور سرگرمیاں پہلے جیسی نہیں رہی تھیں۔ ماں جو اس کی سب سے پہلی ترجیح ہوا کرتی تھی وہ اب اسکی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ صبح آفس جاتے وقت رسماََ وہ ماں کو سلام کرتا اور رات کو دیر سے آنے کی وجہ سے وہ ماں سے نہ مل پاتا۔ وہ جو پہلے گھنٹوں ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹا رہتا ، اب اسکے پاس اپنی ماں کے لیئے چند سیکنڈ بھی نہ تھے۔ زبیر کے اب شب و روز اسی طرح گزرنے لگے ، اسی طرح دو ہفتے گزر گئے۔ ادھر بیگم کلثوم زبیر کی اس حالت کی وجہ سے بہت پریشان ہوتی وہ زبیر کی اس حالت کی ذمہ دار خود کو سمجھتی ہے۔ وہ بہت بار زبیر سے کہتی ہے کہ ” بیٹا تم ہمنا کو گھر واپس لے آؤ، تم میری وجہ سے اپنا گھر خراب مت کرو، اور مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ وہ ابھی اپنی بات مکمل بھی نہیں کرپاتی کہ زبیر ہر بار یہ کہ کر کہ ” ہمنا اپنی مرضی سے گئی ہے تو خود ہی واپس آئے گی میں اسے لینے نہیں جاؤں گا اور ان کی پوری بات سنے بغیر وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ ” زبیر، زبیر ، مگر میری بات تو سنو بیٹا، زبیر زبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ پیچھے سے اس کو آوازیں لگاتی رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔