0

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن(PNHA)کے زیر اہتمام ْالٹرافوڈٗ کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالہ سے آگہی سمینیار کا انعقاد کیا گیا

مظفرآباد (وائس آف پاکستان) پی آئی ڈی کے مطابق پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن(PNHA)کے زیر اہتمام ْالٹرافوڈٗ کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالہ سے آگہی سمینیار کا انعقاد کیا گیا ۔ سیمینا رمیں ڈاکٹر کرنل شکیل مرزا نے الٹر فوڈز کے اثرات پر شرکاء کو پریذنٹیشن دی۔ آزادکشمیر کی سیکرٹری سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر محترمہ مدحت شہزاد سیمینار کی مہمان خصوصی تھیں جبکہ سیمینار میں سیکرٹری تعلیم سکولز زاہد عباسی ، ڈی ایس پی پنجاب پولیس ثناء اللہ گھمن اور ڈاکٹر بشراء شمس سمیت سول سوسائٹی ، سرکاری افیسران اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سپورٹس ، یوتھ اینڈ کلچرمحترمہ مدحت شہزاد نے کہا کہ نوجوانوں کو حفظان صحت کی آگاہی فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے، تعلیمی اداروں کے لیے فوڈ اینڈ نیوٹریشن پالیسی بنائیں گے جبکہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر فاسٹ ٹریک پرتبدیلی لائی جائےگی ۔ میڈیا، پولیس اور سول سوسائٹی معاشرے میں حفظان صحت کے لیے آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے آزادکشمیر میں کام کا آغاز کردیا ہے۔میڈیا اور محکمہ تعلیم اس حوالہ سے آگاہی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے لہذا سب سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت اس سیکٹر میں ہے۔سیکرٹری سکولز زاہد عباسی نے کہا کہ ہمیں سالٹ اور شوگر سے بھرپور غزائیں کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ دنیا organic فوڈ کی طرف بڑھ رہی ہے ہمیں گوشت ، چینی اور گھی جیسی غذائوں سے بچنا چاہئے ، پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر سکولز میں فوڈ پالیسی پر کام کیا جائے گا۔ ڈاکٹر کرنل شکیل مرزا نے الٹر فوڈز کے اثرات پر پریذنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے، فاسٹ فوڈ،برگر ز اور کولڈ ڈرنکس ، چینی ، نمک اور گھی کی ملاوٹ سے بھرپور ہوتی ہیں ہمیں قدرتی غذائیں کھانی چاہیں ، شوگر اور دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ خوراک کا متوازن نہ ہونا ہے ، تمباکو نوشی اور نشے کی ہر شکل حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔ تمباکو نوشی ، کینسر ، دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جبکہ سیمپل فوڈ اورسبزیوں کے استعمال سے انسان بہتر اور صحت مند زندگی گزار سکتاہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سادھا غذائیں سبزیاں اور پھل ہماری صحت کو برقرار رکھ سکتی ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ شوگر ، گھی جیسی غذائیں صحت کے منافی ہیں ان پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دی جائے۔ ڈاکٹر بشراء شمس نے کہا کہ ہمیں الڑا فوڈز سے اجتناب کرنا ہوگا ، یہ عادت ہمیں اپنے بچوں میں ڈالنا ہوگی ، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو غذائوں کے اچھے برے اثرات کے بارے میں بتایا جائے۔ڈی ایس پی پنجاب پولیس ثنا اللہ گھمن نے کہا ہے کہ نشہ نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے نشے سے بچاو کے لیے والدین اساتذہ اور معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وائس پریذڈنٹ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے تمام معزز مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آرگنائزیشن آزادکشمیر میں متوازن صحت کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گی ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں