0

اولڈ ہاوس”از قلم مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ

اولڈ ہاوس”از قلم مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ
قسط نمبر ١
وہ صبح منہ اندھیرے اٹھ کر رب کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لاتی۔ نماز ادا کرچکنے کے بعد دیر تک مصلے پہ بیٹھی رہتی اور رو رو کر اپنے رب سے دعا مانگتی رہتی، نا جانے وہ رب سے کیا مانگتی تھی۔ پھر جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی کے بند کواڑوں میں سے جھانک کر دیکھتی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ،اور کھڑکی کے بند شیشوں پر اس طرح چمکتی کہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی تو وہ مصلے سے اٹھ کر کھڑکی کھول دیتی ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی تازہ ہوا اور سوندھی سوندھی موتیے کی خوشبو کے ساتھ سورج کی کرنیں کمرے میں داخل ہوجاتیں اور سارا کمرہ تازہ پھولوں کی خوشبوٶں سے مہک اٹھتا اور وہ آکر کھڑکی میں کھڑی ہوجاتی، آسمان میں اڑتے، اٹھکیلیاں کرتے ، ہوا میں اڑتے پرندوں کو دیکھتی رہتی ۔ناشتہ کرنے کے بعد وہ ٹیرس پر آجاتی اور ہلکی ہلکی دھوپ میں کرسی لگا کر بیٹھ جاتی اور نیچے سڑک پر آنے جانے والے لوگوں کو تکتی رہتی۔ سڑک پر ہونے والے ہنگاموں کو دیکھتی اور کبھی کبھی سنگین صورتحال دیکھ کر پریشان ہوجاتی اور پھر اپنے ماضی کو یاد کرکے پرسکون ہوجاتی کہ اس سے زیادہ بھیانک بھلا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر وہ کسی گہری سوچ میں گم ہوجاتی۔ کراچی کے فاطمہ بتول اولڈ ہاٶس میں رہنے والی بہت سی عمر رسیدہ عورتیں جن کے بیٹے اور بہوٸیں انھیں اولڈ ہاٶس میں یہ کہ کر چھوڑ جاتے ہیں کہ آپ ہم پر بوجھ ہو اور آپ کی وجہ سے ہماری لاٸف ڈسٹرب ہوتی ہے۔ اور اک امید چھوڑ جاتے ہیں کہ وہ جلد آٸیں گے اور وہ جلد انکو وہاں سے لے جاٸیں گے اور پھر وہ زندگی کے جھمیلوں میں ایسےکھو جاتے ہیں کہ کبھی مڑ کر ماں کی خیریت بھی نھیں دریافت نہیں کرتے ۔ وہ ماں بچاری ساری زندگی انکا رستہ تکتے تکتے اللہ کو پیاری ہوجاتی ہے۔انیھی ماٶں میں سےایک کلثوم بیگم بھی تھی جسے اسکے بچے اولڈ ہاٶس میں چھوڑ کر ہمیشہ کے لٸے بھول گٸے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیٹھ امداد کامن روم کا دروازہ کھول کر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا بہت ہی جوشیلے انداز میں اندر داخل ہوتا ہے اور کامن روم کا دروازہ زور سے مارتا ہے۔ وہ بے چین نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہا ہو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں