رداامانت علی
فیصل آباد
وقت
آج بہت دونوں بعد قلم اٹھا کر ایسی شخصیت کے بارے لکھنے جا رہی ہوں جس کہ بارے پہلے جانتی اتنا نہیں تھی پر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا سچ اور جھوٹ سامنے آتے گئے اور حقیقت نے جیسے نیا رخ دکھا دیا ہو۔
ق جس کے بارے اس کے اپنے دوستوں کے بارے سنا تھا کہ بظاہر شریف اور ہمدرد انسان ہے
اچھائ کے ساتھ ساتھ برائ کا بھی بتایا گیا نوجوان ہے اور اکثر لڑکے نوجوانی میں ایسے راستے اختیار کر لیتے ہیں جن سے اجتناب کرنا بھی چاہئے تھا اور نہیں بھی، ق کے بارے میں ار نے جیسا بتایا اس میں کچھ صداقت بھی تھی اور کچھ محض بدگمانی
ق جوانی میں چاہے جو بھی کر رہا تھا پر اس بات کی خوشی ہے کہ اس نے جس کہ ساتھ وقت گزارا اس کو زمانے بھر میں رسوا نہ ہونے دیا اس کو معاشرہ امیری خاندان جیسی بوسیدہ روایات کا حصہ نہ بننے دیا بلکہ اس نے اپنا قول پورا کرنے کے لیے نہ صرف گھر بلکہ ہر ایک کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہو گیا اس نے دوستوں کے درمیان بیٹھ کر جس کا ذکر کیا اس کو اپنے دوستوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونے دیا بلکہ اس کو اپنا محرم بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اس کی کوشش رنگ بھی لے آئ
مرد چاہے تو راہ چلتی عورت کو بھی اپنی عزت بنا سکتا ہے
کسی غریب
گدا گر
طوائف کو بھی عزت کی چادر دے کر معاشرے میں جینا سیکھا سکتا ہے
مرد ایک وقت میں ایک سے زائد شادی کر سکتا ہے اور اکثر مرد حضرات نے ایک سے زائد شادیاں کی ہوئ ہیں پر عورت ایک وقت میں ایک مرد سے ہی شادی کر سکتی ہے۔
ق نے آج کے زمانے میں ثابت کر دیا کہ اگر کسی کی بہن بیٹی کو اپنی وقتی خوشی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تو اس کو اپنی عزت بنا کر اس کو ایک ایسا مقام بھی عطا کر سکتے ہیں جس پر اس کا حق ہو۔
0