0

صرف پانچ روٹیاں تحریر:ساحرہ صحرا (اٹک)

عنوان :صرف پانچ روٹیاں
تحریر:ساحرہ صحرا (اٹک)
وہ بہت مضطرب دکھائی دے رہے تھے ۔کبھی ایک کرسی سے اٹھتے تو دوسری پہ جا بیٹھتے اور کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگتے۔آتے جاتے ہر شخص کو دیکھتے لیکن کہتے کچھ نہیں بس خاموش مگر طبیعت کی بےچینی واضح دکھائی دے رہی تھی۔دیکھنے میں وہ بزرگ کافی عمر کے لگ رہے تھے۔سفید لباس ، کاندھے پہ سفید پرنا، سر پہ سفید ٹوپی، سفید ریش چہرے سے متانت صاف ظاہر ہوتی تھی۔اس پہ سجا ماتھے کا مہراب اس بزرگ کی شخصیت کو چار چاند لگا رہا تھا۔ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھامے ہوئے وہ بزرگ نجانے کن سوچوں میں محو دکھائی دے رہے تھے۔
میں آپی کے ساتھ بینک میں موجود ایک قطار میں لگی ،کافی دیر سے نہ چاہتے ہوئے بھی نجانے کیوں اس بزرگ کو مسلسل دیکھ رہی تھی ۔مجھے تجسس ہو رہا تھا کہ آخر یہ اللہ کا بندہ اس قدر پر اسرار کیوں لگ رہا ہے۔خیر ہمارا نمبر آیا تو آپی نے کچھ پیسے نکلوائے اور اے ٹی ایم کارڈ نکلوانے کے لیے مینجر سے کہا جو اے ٹی ایم مشین میں آپی سے پچھلے ہفتے پھنس گیا تھا ۔مینجر نے ہمیں کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا تو ہم دونوں ایک کونے میں لگے بینچ پہ آ بیٹھیں اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں لیکن میرا دھیان اسی بزرگ کی طرف تھا۔
کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ کرسی سے اٹھے اور آہستہ آہستہ چھڑی کی مدد سے چلتے ہوئے پانی کے کولر کی طرف بڑھے ۔کانپتے ہوئے ہاتھوں سے گلاس تھاما اور چھڑی کو ایک جانب رکھتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے پانی بھرا اور پی کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اوپر کو دیکھا۔نجانے کیا سوچا کہ ان کے چہرے کا رنگ اچانک سے بدل گیا ۔آنکھیں آنسوؤں سے تر گئیں اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے چھڑی اٹھائی اور واپس کرسی کی جانب چل دیے ۔اب بنک کے کچھ کارکن بھی ان کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے اور ان کے آس پاس بھٹکنے لگے ۔
شاید بزرگ نے بھی اب بھانپ لیا تھا کہ لوگ انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں چنانچہ وہ کرسی سے اٹھے اور دروازے کی جانب چل دیے جہاں کچھ لوگ کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔یہ بزرگ ان کے قریب جا کر رک گئے اور کچھ سوچنے لگے ابھی کچھ کہنے ہی والے تھے کہ پھر رک گئے اور آسمان کی اور دیکھ کے نہایت ہی بے بسی کے عالم میں مسکرائے ۔لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک کرب تھا جو ان کے چہرے اور آنکھوں سے عیاں ہو رہا تھا۔
وہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھے ۔نہایت بےبس دکھائی دے رہے تھے۔بہت مشکل سے اپنے رکے ہوئے قدموں کو ایک بار پھر دروازے کے پاس کھڑے لوگوں کی طرف بڑھایا ۔اسی اثناء میں مینجر نے آپی کو کارڈ تھمایا اور ہم دونوں بھی گھر جانے کی غرض سے دروازے کی جانب بڑھیں۔ دروازے کے پاس اس بزرگ کے منہ سے نکلتے ہوئے کچھ جملے سنے اور میرا دل بھر آیا ،آنکھیں نم ہو گئیں اور بے ساختہ اللہ کو پکارنے لگی۔وہ بزرگ ان لوگوں سے نمناک آواز میں کہہ رہے تھے: ” میں مانگنے والا نہیں ہوں ۔بہت مجبور ہوں ۔جوان بیٹا کرونا سے مر گیا ہے ۔اس کی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے کئی دن سے بھوکے ہیں۔سامنے تندور ہے ۔مجھے وہاں سے صرف پانچ روٹیاں لے دو۔دعائیں دوں گا”۔
میرا وجود جیسے ساکت سا ہو گیا اور پیروں نے چلنے سے جواب دے دیا۔میں نے جھٹ سے پرس کھولا اور کچھ پیسے نکال کر بزرگ کو تھمائے تو وہ آبدیدہ ہو گئے۔کہنے لگے بیٹی ! میں مانگنے والا نہیں ہوں۔صرف پانچ روٹیاں ۔۔۔۔۔پھر انکی آواز بھرا گئی۔میں نے کہا :” بیٹی بھی کہہ رہے ہیں اور انکار بھی کر رہے ہیں، یہ تو ٹھیک نہیں ہے ناں بابا جی!”۔میرے بہت اصرار کرنے پہ آخر انہوں نے پیسے رکھ لیے۔پھر انہی لوگوں میں کھڑے ایک بھلے آدمی نے بزرگ کے ہاتھ چومے اور انہیں پھر سے سہارا دیتے ہوئے کرسی پہ بٹھایا اور بینک سے باہر نکل گیا ۔جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کچھ روٹیاں اور پھل تھے کہنے لگا:” بزرگو! میرے لیے دعا کریں گے ناں پھر !” وہ مسکرائے اور نجانے کتنی ہی دعائیں دیتے ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے گھر کی سمت چل دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں