0

تعلیم یا سودا، رداامانت علی فیصل آباد

رداامانت علی
فیصل آباد
تعلیم یا سودا
کچھ دن پہلے ایک خبر اس طرح سے پھیلی جیسے جنگل میں آگ پھیلتی ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جو کہ بظاہر اب یورپ کی یونیورسٹی لگتی ہے۔ یہ ادارہ پہلے ایک مدرسہ کے طور پر اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا تھا بعد میں اس کو کالج اور کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔آج کل تعلم کے نام پر سودا بازی کی جا رہی ہو۔جہاں تعلیم کم ہو رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کی طالبات اور دیگر یونیورسٹی سٹاف کے مابین ہونے والی نازیبا تصاویر اور وڈیوز ہیں ۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے چیف سیکیورٹی آفیسر کو مشکوک جان کر روکا گیا تو اس کے پاس جنسی طاقت کی گولیاں آئس اور 2 موبائل فونز جس میں لڑکیوں کی بے تحاشا نازیبا تصاویر اور وڈیوز برآمد ہوئیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کوئی بندہ اپنی بہن بیٹی کو کیسے اس ادارے میں پڑھا سکتا ہے جہاں پر فحاشی جیسے سکینڈل رونما ہو رہے ہیں ۔ یہ سانحہ پاکستان میں ہر تعلیمی ادارے کے لئے تشویش کا باعث بن سکتا ہے ۔ علماء اس نظام کے خلاف ہیں جس میں بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہ ہو ۔ والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے گھر کی چار دیواریوں سے اس لئے باہر بھیجتے ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر اس قابل ہو جائیں کہ زندگی میں آنے والی مشکلات کا وہ مقابلہ کر سکیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر کسی دوسرے پر بوجھ نہ بن سکیں۔
اگر ایسے اداروں میں تعلیم کے نام پر سودا بازی کی جائے ان کو فیل ہونے کی دھمکیاں دے کر ان سے فحاشی جیسے کام لیے جائیں ان کی عزتوں کو پامال کیا جائے اور وہ اس ڈر سے چپ ہو کر بات مان لیتی ہیں کہ والدین نے ہم پر بہت پیسہ لگایا ہے ۔ اگر وہ یہ بات سمجھ لیں کہ عزت سے بڑھ کر نہ کوئی پیسہ اور نہ ہی کوئی ڈگری۔ والدین کے ڈر سے چپ رہنا کہ والدین کیا سوچیں گے۔ والدین اپنی اولاد کا کبھی بُرا نہیں سوچ سکتے اس لیے والدین سے اک طرح کی دھمکیوں کے بارے آگاہ کرنا اولاد کا فرض ہے۔ والدین اولاد کے پیچھے ادارے تک نہیں پہنچ سکتے پر کم از کم اس طرح کے حیوانوں کو سزا دلانے میں مدد کر سکتے ہیں ۔ والدین کا سرمایہ ان کی اولاد ہوتی ہے جس کو وہ پڑھا لکھا کر اس قابل بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہر برائی کے خلاف آواز بلند کر سکیں اور والدین کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بات سنیں اور ان کو اپنی آواز بلند کرنے کی ہر طرح سے آزادی دے کہ وہ گھٹیا ترین لوگوں کی بات میں آکر اپنی زندگی تباہ و برباد نہ کریں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس طرح کے لوگوں کو کوڑوں کی شکل میں سزا دی جائے جو عین اسلام کے مطابق ہو اور اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں کہ آئندہ اس طرح کے گھناؤنے کام کرنے کا دور بلکہ سوچنے سے بھی ان کی روح تک کانپ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں