لاہور اردو بازار اور میں
ازقلم:۔ آمنہ یاسین
نئے سمسٹر کے شروع ہونے کا انتظار اس لیے بھی رہتا ہے کہ نئی کتب خریدنے کے لیے اردو بازار کا یادرگار سفر کرنا پڑے گا۔ سمسٹر شروع ہوتے ہی دماغ جہاں ایک طرف اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز کا سوچ کر تھکن سی محسوس کرتا ہے وہی اردو بازار جانے کا خیال اس تھکان کو لمحوں میں جذب کر لیتا ہے۔میری ممکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ کیمسٹری کی کتابوں سے ذیادہ اردو ادب کی کتابیں خریدی جائیں اور ہر بار کتابیں خریدتے ہوئے ماما یہ استفسار ضرور کرتی ہیں ” کیا بی ایس کیمسٹری میں اردو کی کتابیں بھی پڑھتے ہیں؟” ہر بار ایک ہی جواب سن کر وہ عادتاً گھورتی ہیں۔ میں ان کی گھوری کو محض محسوس کرتی ہوں دیکھنے کی جسارت نہیں کرتی۔
اردو بازار جانے اور واپس آنے کے بعد جن لمحات سے میرا وجود گزرتا ہے وہ شاید اس قلم سے بیاں نہ ہو پائیں ۔ جاتے وقت ناقابلِ بیاں مسرت اور واپسی پہ ہاتھوں میں علم کا خزانہ۔ بازار میں باہر سڑک پہ ایک جگہ ایک بھائی نے اردو ادب کی پرانی کتب رکھی ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر میں فی البدیہہ ان سے پرانے رائٹرز کی کتابوں کے بارے میں دریافت کرتی ہوں، دو نام میں ان کو بتاتی ہوں اور چار وہ مجھے ۔ذیادہ تعداد میں ان کے پاس نئے مصنفین کی تصانیف ہوتی ہیں جبکہ میرا ذیادہ تر رجحان واصف علی واصف، بانو قدسیہ ، اشفاق احمد اور فیض احمد فیض جیسے عظیم مصنفین کی تصانیف تلاش کرنے میں ہوتا ہے ۔پچھلی بار میں نے “زاویہ” خریدی تھی اور اس بار ان کتابوں کے مجموعے سے مجھے “میرزاادیب” کی کتاب “خزاں در خزاں” اور “پروین شاکر” کی تصنیف” کفِ آئینہ”ملی۔ فی الوقت میں ان کتابوں کو پڑھنے کے خیال سے لطف اندوز ہوررہی ہوں۔
ویسے تو اردو بازار کی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں اور کبھی تو چہل پہل اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ دو قدم چلنا محال ہوجاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی مجھے اس بازار سے بے پناہ محبت ہے۔یہاں کتابیں بیچنے والوں پہ مجھے رشک آرہا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں جن کے پاس علم کے اتنے وسیع خزانے موجود ہیں۔ پھر مزید خیال میرے ذہن کو رنگین کرتے ہیں کہ کاش! میرے پاس بھی اتنی ذیادہ کتابیں ہوتی یا کاش! میرا گھر اردو بازار کے پاس ہوتا اور میں ہر روز اتنی کتابوں کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی۔کافی دیر خیالی پلاؤ پکانے کے بعد بس دل سے اک آہ ہی نکلتی ہے۔
“ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”
0