144

خواتین کے لیے کمانا کیوں ضروری ہے ؟ قسط3 تحریر معظمہ تنویر

خواتین کے لیے کمانا کیوں ضروری ہے ؟
قسط3
تحریر معظمہ تنویر
ہمارے معاشرے میں معاشی لحاظ سے خود مختار خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ عورتوں کو وراثت میں سے حصے کا نہ ملنا بھی ہے ۔ پھر چوں کہ ان کے خود کمانے کی عام طور پر مخالفت کی جاتی ہے اس لیے وہ اپنے آپ کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کر پاتیں ۔ یہ بھی دیکھنےمیں آیا ہے کہ اگر عورت کو والدین کے گھر میں کام کرنے کی آزادی ہو تو شادی کے بعد بہت کم خواتین کو کام کرنے کی اجازت ملتی ہے ۔ اس پر ستم یہ کہ اکثر مقامات پر انہیں بہت کم خرچ ملتا ہے یا کئی بار خرچہ وصول کرنے کے لیے انہیں عدالتوں کا،رخ کرنا پڑتا ہے ۔ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں ہماری عدالتوں میں بچوں کے لیے خرچ کا دعوی دائر کرنے والی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اور ان میں زیادہ تر وہی عورتیں ہیں جنہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
در اصل شادی کو ایک سہانا خواب بنا کر ہر لڑکی کی آنکھوں میں سجایا جاتا ہے لیکن اس بندھن کے چیلنجز کے بارے میں انہیں آگاہ نہیں کیا جاتا ۔ دوسری طرف شوہر حضرات کی اکثریت کو یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ وہ بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ خرچ دیں ۔ چناں چہ اس ضمن میں خواتین کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اپنانے کی روش بھی عام ہے ۔ یہاں تک کہ خرچہ مانگنے پر عورتوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں بسا اوقات خواتین چارو ناچار اپنے قریبی عزیزوں سے تھوڑی بہت مالی امداد لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔لیکن وہ لوگ بھی ہمیشہ مدد نہیں کرتے ۔ ایسی مثالیں بھی دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں ہیں کہ بہت اچھا کمانے والے شوہر حضرات بھی اپنی بیویوں کو خوشدلی سے خرچ نہیں دیتے اور معمولی ضروریات زندگی کے لیے ساری عمر ترساتے رہتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں