خواتین کے لیے کمانا کیوں ضروری ہے؟
قسط 1
تحریر معظمہ تنویر
یہ حقیقت ہے کہ خواتین کے لیے صرف گھر کا انتظام اور بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ہی ایک عظیم ذمہ داری ہے ۔اور یہ بھی سچ ہے کہ مرد حضرات بھی صرف اسی صورت میں پرسکون ہو کر کمانے کے لیے جا سکتے ہیں جب گھر کے نظم و نسق،کو خواتین بہتر انداز میں سنھال رہی ہوں ۔ اس حوالے سے بنظر انصاف اگر دیکھا جائے تو مرد وں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں خواتین کا تعاون بھی شامل حال ہے ۔ سو ہمارے معاشرے میں ذمہ داریوں کی تقسیم اس طرح سے کی گئی کہ گھر یلو زندگی کے تمام امور اور بچوں کی پرورش و تربیت کی ذمہ داری عورت کو سونپی جاتی رہی اور پیسہ کمانے کی ذمہ داری مرد کے کاندھوں پر ڈالی گئی ۔ لیکن اس کے باوجود بہت سی ناگزیر وجوہات کی بنا پر خواتین شروع سے گھر کے علاوہ باہر کام کر کے کمانے کا فرض بھی انجام دیتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بعض اوقات ان کے کام کرنے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا ۔ اور صرف گھر کی چار دیواری تک عورت کو محدود رکھنے کی عملی کاوشیں بھی کی گئیں ۔ جن کی وجہ سے تقریباً آدھی آبادی کی خدادا صلاحتیوں سے یہ معاشرہ،فائدہ اٹھانے سے محروم رہا۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر عورت کیوں کام کرے ؟ لیکن اس سے پہلے اگر ہم اپنی دیہی زندگی کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں مشینوں کی ایجاد اور افراط سے قبل عورت نے صنف نازک کے تصور کو صنف آہن میں بدل دیا ۔ جن لوگوں کا خاص طور پر ماضی میں دیہی زندگی کا قریبی مشاہدہ رہا ہے وہ گواہ ہیں دیہاتی معاشرے کی خواتین نے اپنے خاندان کی معاشی حالت کو سدھارنے کے لیے ہمیشہ مرد حضرات کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ اور اسے کبھی عار نہیں سمجھا گیا ۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ جب خواتین بھی گھر کے علاوہ باہر بھی کام کریں گی تو معاشی استحکام کے نئے راستے کھلیں گے ۔
جاری ہے
135