0

امتحان بجلی کا بل،، ردا امانت علی فیصل آباد

رداامانت علی
فیصل آباد
امتحان بجلی کا بل

پاکستان کے کسی بھی شہر میں لوگ مہنگائی کی وجہ سے لاچار ہو رہے تھے پر بجلی کے بلوں نے عوام کو اس قدر مجبور کر دیا ہے کہ لوگ اپنے گھر کی چیزیں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے اور خود کشی کرنے پر مجبور نہیں بلکہ خود کشی جیسا اقدام اٹھا رہے ہیں کہ مہنگائی سے جان چھوٹ جائے ۔
عوام کو کھانے پینے کی اشیاء خریدی نہیں جا رہی پر بجلی کے بلوں میں آئے دن اضافے نے لوگوں کو ہمیشہ کی نیند سونے پر مجبور کر رہا ہے۔
بازار چلے جائیں تو عوام اپنے گھر کی چیزیں فروخت کر رہے ہیں کہ بجلی کے بل ادا کئے جا سکیں، عوام اپنے گھر کی عورتوں کے زیورات فروخت کر رہے ہیں کہ بجلی کے بل ادا کر سکیں
ایک بزرگ آدمی نے اپنی پوتی کے کانوں کی بالیاں فروخت کر کہ بجلی کا بل ادا کیا۔
اک قدر مہنگائی نے کہرام مچا رکھا ہے کہ لوگ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں یا بجلی کے بل ادا کریں
عوام اس قدر پریشان ہے کہ ملکی حالات کس قدر جا رہے ہیں ہر طرف مہنگائی ہے انسان زندگی گزارے یا زندگی کا خاتمہ کرے
ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ مہنگائی کے جن کو قابو کریں نا کہ عوام۔کو خودکشی کرنے پر مجبور کرے
امیروں کی بھی اس مہنگائی سےچینخ و پکار آرہی ہے کہ مہنگائی کو قابو کیا جائے
جب امیر لوگوں کی چیخ و پکار کا شور ہے تو غریب لوگوں کا کیا حال ہو گا
ایک انسان کی 30 تنخواہ ہو اور اسے 70 ہزار بجلی کا بل آجائے وہ بل کہاں سے ادا کرے گا وہ اپنے اہل و عیال کے لئے کھانے پینے کی اشیاء خریدے گا ، بجلی کا بل ادا کرے گا ، خود کا خاتمہ کرے گا ، اپنے اہل و عیال کو ہمیشہ کی نیند دے گا یا چوری ڈکیتی جیسے جرائم کرے گا ۔
بجلی کے بل اس بار عوام پر ایک ایسے بم کی طرح ہے جس نے ہر طرف شور برپا کر دیا ہے
حکومت کو اس مہنگائی کے جن کو بہت جلد قابو کرنا ہو گا تا کہ عوام بھی سکھ کا سانس لے سکے۔ بجلی پر اضافی ٹیکس پر قابو پایا جائے تا کہ عوام کو ذہنی سکون میسر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں