124

لا تقنطو من رحمت اللہ،، تحریر: غزالہ انجم

لا تقنطو من رحمت اللہ
یہ جو ہر طرف باطل قوتیں سر اٹھا رہی ہیں۔ترقی اور عروج اغیار کا نصیب اور زوال مسلمانوں کا مقدر دکھائی دیتا ہے۔ سائنس ایجادات اقتصادیات اور یہاں تک کے اخلاقیات میں بھی مسلمان غیر مسلموں سے کہیں پیچھے رہ چکے ہیں۔ یقینا پریشانی کادور ہے۔مسلمان ہر طرف ظلم و ذیادتی کا شکار ہیں۔غلامی کی زنجیریں کشمیر سمیت بہت سے دیگر علاقوں کے مسلمانوں کو جکڑ چکی ہیں۔مزید بر آں مسلمانوں کی غفلت ،اسلامی اصولوں سے دوری ،محنت، لگن ، خلوص نیت کے فقدان اور اخلاقی پستی نے مسلانوں کو تنزل کے گہرے کنویں میں پھینک دیا ہے۔ ۔۔حالات انتہائی مایوس کن ہیں۔۔کوئی رستہ سجھائی نہیں دیتا۔ایسے میں اقبال کا شکوہ دل و دماغ میں گونجتا ہے کہ
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پہ
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
۔مگر خدائے لم یزل نے مایوسی کو کفر قرار دیا۔اس کی قدرت یہ ہے کہ دیوار کو در کردے۔پتھر میں زندگی عطا کردے۔آگ کو گلستان کردے۔ناممکن کو ممکن کردے۔۔۔ضرورت صرف مومن کےاٹھ کھڑے ہونے کی ہے۔جب مومن جذبہء ایمان سے سرشار ہوتا ہے اور اللہ پہ توکل کرتے ہوئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوجاتا ہے تو ایسے میں
ہاتھ ہے اللہ کا بندہء مومن کا ہاتھ۔
کے مصداق مومن کو کچھ بھی کر گزرنے کی قدرت عطا کرتا ہے۔۔ پھر کہاں کوئی طوفان کے سامنے ٹھہر سکتا ہے۔۔
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و ورریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
مومن کے ایمان و عشق کی طاقت کے آگے بڑی سے بڑی طاقت بھی خس و خاشاک کی مانند ہے۔کفار کی تمام ترقی اور تمام عروج ماسوائے تارِ عنکبوت کے کچھ نہیں ۔جیسے مکڑی بڑی محنت اور جد و جہد کے بعد ایک جالا بنتی ہے مگر ہوا کا ایک ہی جھونکا اسے تہس نہس کر دیتا ہے یونہی یہ غیر مسلموں کی عارضی معمولی اور دنیاوی ترقی اور طاقت اس وقت تک ہے جب تک قدرت الہی کو جوش نہیں آتا ۔جس لمحے قادر مطلق نے چاہا ایک ہی جھٹکے میں سب ختم ہوجا ئے گا۔
پھر مایوسی کیسی۔۔۔ضروت ہے اللہ سے رجوع کرنے کی۔اللہ کی رحمت پہ یقین کامل رکھنے کی۔اور فطرت کے مطابق چلنے کی۔
دنیا مسبب الاسباب ہے۔اسی لیے یہ ترقی یہ عروج دنیاوی محنت لگن اور خلوص نیت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔اس حوالے سے اللہ کی نظر کرم اسی پر ہوتی ہے جو محنت کرتے ہیں۔۔۔تدبر کرنے والوں پہ بلا تخصیص ِ قوم وہ قدرت کے راز کھل دیتا ہے۔۔پھر وہ چاہے نیوٹن ہو مادام کیوری یا آئن سٹائن۔۔۔ان کی ریاضت لگن اور نیت کا صلہ وہ ضرور دیتا ہے۔۔۔اسی محنت ریاضت اور خلوص نیت کی ضرورت مسلمانوں کو ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب جب مسلمان جذبہء ایمانی کے ساتھ میدان میں اترے ہیں تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہزاروں کے مقابلے میں بھاری ثابت ہوئے۔
اللہ سے رحمت کی امید کی جائے۔بس اس کی نظر کرم ہو تو مسلمان ہدایت علم دولت و طاقت سے نوازے جائیں۔۔۔پھر یہ جو باطل قوتوں کی ترقی و عروج ہے سب خاک میں مل جائے۔
آئیے رحمت خداوندی کی دعا کرتے ہیں۔کیونکہ صرف یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں غفلتوں کی اندھدیری کوٹھری سے باہر نکال سکتی ہے۔اور ترقی و عروج کی راہ دکھلاسکتی ہے۔بشرط یہ کہ ہم خلوص نیت سے اللہ کے کرم ،ہدایت، علم اور طاقت کے طلب گار ہوں اور محنت صداقت اور دیانت کو اپنا شعار بنا کر ہر شعبہ زندگی میں آگے بڑھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ان شاءاللہ جب مشیت ایزدی نے ٹھان لی اور اپنی قدرت دکھانے کا ارادہ کرلیا باطلوں کی ترقی کی ساری بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہوجائیں۔۔۔اور مسلمان دنیا
و مافیہا میں سرخرو ہو جائیں گے۔۔۔ان شاءاللہ
آئیے خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی خطاوءں کی معافی مانگیں اور دعا کریں کہ محمد ﷺ اور آل ِمحمد ﷺ کے صدقے ہم پر اپنی رحمتوں کا نزول کرے اور ہمیں باطل قوتوں کے خلاف شہدائے کربلا کے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا کرے۔۔۔۔آمین

غزالہ انجم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں