162

قوموں کا عروج وزوال ، از قلم عزیز فاطمہ

شاعرہ، مصنفہ، ادیبہ: عزیز فاطمہ
قوموں کا عروج وزوال از قلم عزیز فاطمہ
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزیز فاطمہ
قومیں ہمیشہ قربانیوں سے بنتی ہیں اور محنت سے عزم و استقلال اور ترقی پاتی ہیں۔ مگر جب قوموں میں آرام پرستی بد دیانتی شامل ہوجائے تو زوال ان کا مقدر بنا کرتا ہے۔ قومیں اس وقت تک ہی کھڑی رہ پاتی ہیں جب تک وہ ایماندای،محنت اور عدل و انصاف کا دامن ھاتھ سے جانے نہیں دییتیں۔زندہ قومیں و ہی ہوا کرتی ہیں جو اپنے اسلاف کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی قربانیوں اور خدمات کی قدر کرتی ہیں۔ اور دوسری طرف وہ قومیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتیں جو اپنے اسلاف کو بھلا دے۔ ہم بحیثیتِ قوم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں ہمارے اسلاف نے اس ملک پاکستان کو حاصل کرنے کے لیئے بہت قربانیاں دیں اور بہت محنت کی، انہوں نے ایک آزاد اور علیحدہ ملک کے حصول کے لیئے ڈٹ کر جدوجہد کی اور اس کی سالمیت پہ اور اس کے حصول پہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ حتی کہ اسکے حصول کو اپنی ذاتی ذندگیوں سے بھی ذیادہ مقدم رکھا۔ اور ایک ہی مقصد ایک ایسے علیحدہ اور آزاد ملک کا قیام ”جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرسکیں اور اپنے بچوں کو آزاد ملک میں آزادی کے ساتھ مذہب اسلام کی تعلیمات دلا سکیں اور آزد فضا میں سانس لے سکیں“ وہ اسی مقصد کو لے کر چلے اور اسی پر اپنی جانیں قربان کردیں۔مگر آج ہم ایسی بےحس اور احسان فراموش قوم بن گئے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی اسلاف کو کٹیہرے میں کھڑا کرلیا ہے ان کی ہی کھلی کچہری لگا کر ان کو ہی مفاد پرست اور ملک دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے۔ کبھی قائداعظم کو سیکولر ٹھرایا گیا، کبھی علامہ اقبال کو بد مذہب کہا گیا تو کبھی محترمہ فاطمہ جناح پر غداری کا الزام لگا کر ان سے تمام تر اختیارات چھین لیئے گئے جو کہ ذندہ قوموں کا شعار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم پستی اور زوال کا شکار ہیں اور آج ہم پر مفاد پرست حکمران مسلط ہیں۔ کیونکہ جیسی قوم \ عوام ہوتی ہے ویسے ہی ان پر حکمران مسلط کردیے جاتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ برا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ قائداعظم کی وفات بھی طبعی موت نہیں تھی بلکہ ان کو جان بوجھ کر وقت پر ہسپتال نہیں پہنچایا گیا۔ اگر ان کو وقت پر ہسپتال پہنچا دیا جاتا تو شاید جموں کشمیر بھی آزاد ہوجاتا۔ جموں کشمیر کو یہ آج کل کے حکمران آزاد کراسکے اور نہ ہی کبھی آزاد کرا پائیں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کو بنانے، چلانے اور بچانے کے لیئے ایمانداری اور حب الوطنی درکار ہوتی ہے، جس کی ہم ،ہمارے آج کل کے حکمرانوں سے توبلکل توقع نہیں کرسکتے۔ وہ وہی تھے جو کرگئے، جو بنا گئے اور ہم جیسی ناشکری اور احسان فراموش قوم کو آزاد فضا۶ میں سانس لینے کےلیئے آزاد ملک بنا کر دیا۔ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ایسے سورما جو دہکتے ہوئے انگاروں اور طوفانوں سے قوم کی کشتی بچاکر لاتے ہیں۔یہ ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے اس کی مقدس مٹی کو ہمارے اصلاف نے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ اس میں کتنی ہی عورتوں کے سہاگ، ماؤوں کے لال اور بہنوں کے مان دفن ہیں ،یہاں تک کہ قوم کی بیٹیوں نے اپنی عزت و جان تک اس ملک پہ وار دیں۔ اور آج ہم یہ کہتے پھرتے ہیں کہ اس ملک میں رکھا کیا ہے ، اس ملک نے ہمیں دیا کیا ہے؟ میں پوچھتی ہوں کہ آخر ہم نے اس ملک کو کیا دیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بد امنی، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری جو ہم سب نے لگا رکھی ہے۔ آج ہم بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جب سے یہ ارضِ مقدس معرضِ وجود میں آئی ہے تب سے ہی ہمارا یہ شعار رہا ہے کہ ہم علم تو اس ملک سے حاصل کرتے ہیں ،اپنے پاؤں پہ تو کھڑے اس ملک میں ہوتے ہیں، ہمیں چلنا ، اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا تو یہ دھرتی ماں سکھاتی ہے مگر ہم سہارا دینے کسی اور کو چلے جاتے ہیں ، مقدر اور مستقبل کے تو کسی اور ہی کی فکر ہوتی ہے۔ اپنی دھرتی ماں سے وفا تو ہم نے کبھی کی ہی نہیں، اسکے لوگوں کا بھلا تو کبھی ہم نے کیا ہی نہیں۔ساری زندگی ہم اپنے ملک کو کھاتے رہتے ہیں اور جب اسے ہماری ضرورت ہوتی ہے ہم ” غریب ملک اور اس نے ہمیں دیا ہی کیا ہے“کہ کر غیر ملک سیٹل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یہاں اس غریب ملک میں اپنا مستقبل خطرے میں نظر آرہا ہوتا ہے مگر اس ملک کے بہتر مستقبل کا کیا؟ کبھی ہم نے اس ملک کا بھی سوچا ہے۔ اسلام کے نام پہ بننے والے اس ملک ،اسلامی جمہوریئہ پاکستان میں آج اسلام کے ساتھ ہی کھلواڑ ہو رہا ہے ۔ کوئی اٹھ کر نبوت کا جھوٹا دعواہ کردیتا ہے تو کوئی خود کو امام مہدی کہنے لگتا ہے، آج ایک عام آدمی، ایک سیاست دان کو معاذ اللہ پیغمبر اعظم سے ملایا جاتا ہے اور اس کے پارٹی ارکان کو صحابہ کہ دیا جاتا ہے تو کہیں اسکے ماں باپ کو پیغمبرِاعظم نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے پیارے والدین سے ملایا جاتا ہے اور تو اور ایک عام سیاسی لیڈر بھی خود کو صادق اور امین کا لقب دینے لگتا ہے۔ آ خر دین کے ساتھ یہ مذاق، یہ کھلواڑ کب بند ہوگا۔ اس اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں اسی میں ہم مادیت پرستی میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ ہم نے اسلامی قدروں تک کو پامال کردیا ہے ، اسلامی شعار کے تقدس تک کو پامال کردیا ہے۔ اور دوسری طرف ہم شخصیت پسندی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ ایک شخص کے پیچھے اپنے دین کو، اپنے اللہ اور نبی تک کو بھول گئے ہیں اور اندہھا دندھ اس کے پیچھے لگے ہیں یہاں تک کہ اس کی محبت میں ہم اس کو پیغمبر تک کا درجہ دے جاتے ہیں، اس کی محبت میں ہم ہر حد کو پار کرتے جارہے ہیں، یہاں تک کہ کلمہ طیبہ والے بورڈ پر ڈنڈے برسا کر اس کو بھی توڑ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالمو تمہارا دل نہیں لرزا، تمہارے ہاتھ نہیں کانپے تم جب کلمے پر یعنی اللہ اور اس کے پیارے محبوب کے اسمِ پاک پہ ڈنڈے برسا رہے تھے؟ تمہارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے، اس کلمے والے بورڈ پر ڈنڈے برسانے سے پہلے۔ یہ کیسی جرت ہے، یہ کیسا ایمان ہے۔؟۔ آج ہمارا ایمان اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ ہم ایک جھوٹی آیات اور جھوٹی حدیث بیان کرنے والے، کھلم کھلا پہلے علما۶ِ دین پھر اولیا۶ کرام، اصحابہ اور انبیا۶ کا رد کرنے والے منافق اور گستاخ سے دین سیکھتے ہیں۔ وہ جو چودہ سو سال پہلے دورِ نبوت میں ہونے والے واقعات کو جھٹلا رہا ہے وہ جو اولیا۶ کی کرامات اور انبیا۶ اکرام کے معجزات کا صریحاَ انکار کر رہا ہے، جو خدا معلوم کون دشمنِ دین ہے اور مسلمانیت کا اور اسلام کا لبادہ اوڑ کر دین کا مبلغ بن کر لوگوں کو گمراہ کر رہاہے۔ اس سے ہم مسئلے سیکھتے ہیں۔ خدا ہمیں ایسی جہالت اور اندھی تقلید سے بچائے جو ہمارا دین ہی ہم سے چھین لے۔ اور ہمیں صحیح دین پر رکھے اور صحیح ایمان کے ساتھ زندگی اور موت عطا کرے۔ آمین یہ ملکِ خدا داد اگر ابھی تک قائم ہے اور ہم آذاد فضا۶ میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے بزرگوں کی دعائیں ہیں جنہوں نے اسے انپے خون سے سینچا ہے۔ذندہ قومیں ایسی نہیں ہوتیں وہ ہمیشہ اپنے مذہب اور شعار کو مقدس رکھتیں ہیں وہ کبھی بھی ان کا تقدس پامال نہیں ہونے دیتیں۔ ذندہ قومیں اپنے بزرگوں کی محنت اور قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتیں بلکہ ہمیشہ انھیں ذندہ رکھتی ہیں۔ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی اقدار کو ذندہ رکھتی ہیں اور اپنے ذاتی مفادات پر ملک کے مفادات کو مقدم رکھتی ہیں اور اس کی ترقی اور حفاظت کے لیئے دن رات کام کرتی ہیں۔ اور جو قومیں اپنی اقدار بھول جاتی ہیں اور اپنا وقار کھو دیتی ہیں، جن کو اپنے ملک و قوم کی سالمیت کے بجائے ذاتی مفاد کی فکر ہو، وہ قومیں ہمیشہ زوال کا شکار ہوتی ہیں اور مٹ جایا کرتی ہیں۔ یہی دنیا کا دستور ہے یہ صدیوں سے ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں