0

عورت،،رداامانت علی فیصل آباد

رداامانت علی
فیصل آباد
عورت
عورت کے بارے مختصر سا لکھنے جا رہی ہوں، ہو سکتا ہے۔ آپ میں سے کچھ لوگوں کو مجھ سے اتفاق نہ ہو۔میں زیادہ پیچھے یا صدیوں میں جانا نہیں چاہتی کہ عورت کے بارے میں آپ سب کو روشناس کرواؤں پر میں آپ سب کی سوچ و نظریہ کو اس طرف مرکوز لازمی کرنا چاہتی ہوں کہ جس طرح مرد کے حقوق و فرائض ہیں اسی طرح عورت کے بھی حقوق و فرائض متعین ہیں ۔عورت جس روپ میں بھی ہو الله نے اس کے لئے ہر مقام دوسروں سے الگ اور اونچا رکھا ہے۔ عورت بہن کے روپ میں ہو، بیٹی کے روپ میں ہو، بیوی کے روپ میں ہو یا عورت ماں کے روپ میں ،اعلیٰ درجے کا مقام رکھتی ہے۔ آج ہم اپنے معاشرے میں بہت دور نہیں بس ہم اپنے آس پاس دیکھ لیں کہ کیا ہم اکیلی عورت کو اس معاشرے میں جینے دیتے ہیں۔ عورت کے کردار کو کس طرح سے کردار کشی کرتے ہیں کہ پاکیزہ عورت اگر گھر سے باہر قدم رکھتی ہے تو لوگوں کی نظریں اور باتیں پہلے اس کے کردار کو اس طرح سے دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرتی ہیں کہ جیسے اس عورت نے گھر سے باہر قدم نکال کر بدنامی کو اپنا مقدر بنا لیا ہو۔کسی پر بہتان لگانا گناہ ہے اور اس کی سزا کوڑوں کی شکل میں ہے پر ہم اپنے گھر کی بیوی بیٹی بہن کو اس نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ وہ ہماری اپنے گھر کی عورتیں ہیں پر دوسروں کی عورتوں کی عزت کو پامال کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔اکثر مرد حضرات راہ چلتی عورت پر باتیں کرتے ہیں اور اس کو اپنی نظروں سے اس کے گھر تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جب تک وہ عورت مرد کی نظر سے اوجھل نہیں ہو جاتی۔ اگر ہم اپنے گھر کی عورتوں کی حفاظت کر سکتے ہیں تو ہم دوسروں کے گھر کی عورتوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ان کی عزتوں کو پامال بھی نہ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں