حکومت نے بجٹ 2023-24ء میں ریٹیل آؤٹ لیٹس اور فوڈ ریٹیل آؤٹ لیٹس/ریسٹورنٹس پر ایک خاص حد(مثال کے طور پر 5ہزار اور 10ہزار روپے) سے زیادہ نقد لین دین اور کیش ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا۔ نیوز ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق تجویز منظور ہونے کی صورت میں یہ پابندی یکم جولائی 2023سے ہی لاگو ہو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام اس تجویز پر غور و خوض کر رہے ہیں کہ آیا یہ قابل عمل ہے یا نہیں اور آیا اس پابندی کے لاگو ہونے سے کارڈز اور دیگر ذرائع سے ادائیگی کو فروغ ملے گا؟رپورٹ کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ یہ تجویز نقد لین دین کرنے والے خرید و فروخت کنندگان کو ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈز اور دیگر الیکٹرانک ذرائع سے ادائیگی کرنے پر مجبور کر دے گی، جس سے ٹیکس چوری میں کمی واقع ہو گی۔تاہم اگر یہ پابندی لاگو ہوتی ہے تو تمام ریستورانوں اور دیگر متعلقہ جگہوں پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینیں نصب کرنی پڑیں گی، جو کارڈز اور دیگر ذرائع سے ادائیگی میں استعمال ہوتی ہیں۔اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس چوری اور رقوم کی غیرقانونی منتقلی کی روک تھام ہو گی بلکہ بینکنگ سروسز کو بھی فروغ ملے گا۔
138